Volume 8, No. 8, August 2026
Editor: Rashed Rahman
Error: Contact form not found.
داود ظفر ندیم
ماہ رنگ بلوچ کو ملنے والی سزا کے فیصلے نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکنوں کو سخت اضطراب اور صدمے میں متبلا کر دیا ہے ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور تشدد کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری پرامن تحریک کا ایک اہم اور نمایاں چہرہ ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور “بلوچ یکجہتی کمیٹی” کی سرگرم رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی قیادت میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کے خاندانوں، بالخصوص خواتین اور بچوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مارچوں میں حصہ لیا ہے۔
بدقسمتی سے پنجاب کے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی بلوچستان کے بارے میں بہت محدود آگاہی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے بلوچستان میں موجود سرداری نظام کی وجہ سے سب مسائل ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس سرداری نظام کو ریاست کے کن طاقتور طبقات کی حمایت حاصل ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا آبائی علاقہ منگوچر (ضلع قلات) روایتی طور پر ایک سرداری اور قبائلی نظام کے زیرِ اثر علاقہ ہے۔ منگوچر کا علاقہ بنیادی طور پر ماہ رنگ بلوچ کے اپنے قبیلے، یعنی لانگو قبیلے کا گڑھ ہے۔ اس قبیلے کا اپنا ایک باقاعدہ سرداری خاندان موجود ہے جو علاقے کے روایتی فیصلے کرتا ہے۔ قلات ڈویژن میں سرداری اور نوابی نظام (جیسے رئیسانی، مینگل، زہری اور لانگو قبیلے) بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ لانگو قبیلے کے موجودہ موروثی اور روایتی سردار، سردار نادر خان لانگو ہیں۔ ان کے علاوہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں درج ذیل دو اہم خاندان یا شخصیات نمایاں ہیں جو قبیلے کے امور اور منگوچر (قلات) کی سیاست پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ لانگو قبیلے کی سیاست قبیلے کو دو اہم افراد کے ہاتھ میں ہے ایک میر ضیا اللہ لانگو ہیں جو سردار نادر لانگو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں وہ وفاق کے ساتھ مل کر سیاست کرتے ہیں اس وقت بھی بلوچستان کے وزیر داخلہ ہیں جبکہ ان کے مخالف میر سعید لانگو ہیں جو جمیعت العلمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست کرتے ہیں۔ یہ دونوں افراد ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کی سیاست کے سخت مخالف ہیں کیونکہ وہ اے روایتی سرداری نظام کے لئے ایک چیلنج سمجھتے ہیں۔میر ضیاء اللہ لانگو طویل عرصے سے بلوچستان کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں اور وہ موجودہ صوبائی وزیرِ داخلہکے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے طاقتور لوگ میر ضیا اللہ النگو اور میر نادر لانگو کے سرداری نظام کو تقویت دیتے ہیں بلوچستان میں دو تین سردار کو چھوڑ کر تمام سردار کی پشت پناہی ریاست کے طاقتور ادارے کرتے ہیں اور یہ تمام سردار سیاست میں ان کے حلیف ہیں
میر ضیا اللہ لانگو نے متعدد بار پریس کانفرنسز میں ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزامات عائد کیے کہ یہ تحریک پرامن نہیں ہے بلکہ یہ ریاست مخالف عناصر اور مسلح تنظیموں کے لیے سہولت کاری کا کام کر رہی ہے۔
ان کی وزارتِ داخلہ کے دورِ حکومت میں ہی ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں پر دہشت گردی، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور بغاوت کے درجنوں مقدمات قائم کیے گئے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ کے والد، عبدالغفار لانگو، بلوچستان کے پسماندہ متوسط طبقے کے ایک متحرک سماجی اور سیاسی کارکن تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے کوئٹہ کے محکمہ بلدیات (میونسپل کارپوریشن) میں ایک معمولی ملازم تھے، لیکن وہ بائیں بازو اور قوم پرست نظریات کے حامی تھے۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق کے لیے بننے والی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔ غفار لونگو سردار خیر بخش مری کی فکر سے مثاتر تھے اور بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل تھے جب ماہ رنگ بلوچ چھٹی جماعت میں تھیں (تقریباً 10 سال کی عمر)، تو ان کے والد کو پہلی بار سنہ 2006 میں حراست میں لیا گیا اس وقت ماہ رنگ نے پہلی بار اپنے والد کی رہائی کے لیے چھوٹے پیمانے پر مظاہروں میں حصہ لیا。 چند ماہ بعد ان کے والد رہا ہو گئے
سنہ 2009 میں انہیں کراچی کے ایک ہسپتال کے باہر سے دوبارہ مبینہ طور پر لاپتہ کر دیا گیا。 دو سال کے طویل انتظار کے بعد، سنہ 2011 میں ضلع گڈانی سے ان کی مسخ شدہ لاش ملی، جس پر شدید تشدد کے نشانات تھے۔ جہاں بلوچ عوام اور حقوق کی تنظیمیں غفار لانگو کو ایک سیاسی اور حقوق کے کارکن کے طور پر دیکھتی ہیں، وہیں ریاستی اداروں اور مخالفین کا الزام رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر مسلح علیحدگی پسند گروہوں کے ہمدرد یا عسکریت پسند کمانڈر تھے۔ تاہم، ان کی موت نے ہی ماہ رنگ کو حقوقِ انسانی کی ایک بڑی تحریک کی طرف دھکیلا۔انہوں نے اپنے ذاتی دکھ کو ایک منظم سیاسی و سماجی مزاحمت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ماہ رنگ بلوچ نے انتہائی کٹھن حالات اور مالی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور ڈاکٹر بنیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تحریک کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، اس کا راستہ دراصل کریمہ بلوچ اور فرزانہ مجید جیسی خواتین نے پہلے ہی ہموار کر دیا تھا، جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں بلوچ خواتین کو سیاسی طور پر متحرک کیا۔
کریمہ بلوچ (بانک کریمہ) کوبلوچستان میں خواتین کی سیاسی بیداری اور متحرک کاری کی حقیقی بانی اور ‘پائنیر’ سمجھا جاتا ہے۔ وہ بلوچستان کی 50 سالہ تاریخ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی پہلی خاتون چیئرپرسن بنیں۔ انہوں نے بلوچستان کی خواتین کو گھروں سے نکال کر احتجاج کا حصہ بنانا سکھایا۔ سال 2016 میں بی بی سی نے انہیں دنیا کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ دسمبر 2020 میں کینیڈا میں ان کی پراسرار موت ہوئی۔
فرزانہ مجید نے 2009 میں اپنے بھائی زاکر مجید کی جبری گمشدگی کے بعد احتجاجی سیاست کا آغاز کیا۔ فرزانہ مجید نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک کے تاریخی پیدل لانگ مارچ (وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے) میں اہم ترین قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان میں طویل احتجاج اور تاریخی لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے بعد، وفاقی حکومت نے فرزانہ مجید اور ماما قدیر بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا تھا تاکہ وہ بیرونِ ملک سفر نہ کر سکیں۔ تاہم، ستمبر 2015 میں سندھ ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیا اور انہیں آزاد شہری کے طور پر کہیں بھی جانے کی اجازت دی۔
عدالتی حکم کے بعد، دسمبر 2015 کے آخر میں فرزانہ مجید، ماما قدیر بلوچ کے ہمراہ واشنگٹن ڈی سی، امریکہ پہنچیں۔ انہوں نے جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد اقوامِ متحدہ، امریکی حکام اور مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز کے سامنے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ اٹھانا شروع کیا۔
فرزانہ مجید اب بھی امریکہ کے مختلف شہروں (جیسے نیویارک اور واشنگٹن) میں مقیم رہتے ہوئے سوشل میڈیا اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے متحرک ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز اور امریکی اداروں کے باہر متعدد بار مظاہرے کیے ہیں تاکہ اپنے بھائی ذاکر مجید (جو کہ 2009 سے لاپتہ ہیں) کی بحفاظت بازیابی کے لیے عالمی برادری کی توجہ حاصل کر سکیں۔
شکر بی بی کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک قانون دان ہیں جنہوں نے 2003 سے 2008 کے دوران “بلوچ خواتین پینل” کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد بلوچ خواتین کو قوم پرست سیاست اور اپنے حقوق کے شعور کی طرف راغب کرنا تھا۔
اگرچہ خواتین کا سامنے آنا نیا نہیں ہے، لیکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تحریک نےایک بڑا بدلاؤ ضرور پیدا کیا پہلے ایک یا دو خواتین رہنما سامنے آتی تھیں، لیکن اب ماہ رنگ بلوچ کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں عام بلوچ خواتین، مائیں اور بہنیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں، جس نے اس احتجاج کو ایک عوامی تحریک بنا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سیاست میں انہیں ایک منفرد مقام حاصل ہے، کیونکہ وہ کسی موروثی سرداری یا خاندانی اثر و رسوخ کے بغیر، محض اپنے نظریات اور عوامی جدوجہد کی وجہ سے ایک بڑی تحریک کی رہنما بن کر ابھری ہیں۔
اس وقت بلوچستان کی سب سے متحرک اور بڑی پرامن عوامی تحریک بن چکی ہے۔
اس کمیٹی کی جڑیں جولائی 2018 سے ملتی ہیں۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ماہ رنگ بلوچ کے بھائی کو بھی مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا (جو بعد میں رہا ہو گئے)۔ اس واقعے کے بعد مختلف طلبہ اور متاثرہ خاندانوں نے مل کر ایک غیر رسمی اتحاد قائم کیا، جسے بعد میں “بلوچ یکجہتی کمیٹی” کا نام دیا گیا
جون 2024 میں کراچی پریس کلب میں ایک اہم اجلاس کے دوران بی وائی سی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اس تحریک کا مرکزی آرگنائزر منتخب کیا گیا۔
بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی باقاعدہ عدالتوں میں پیشی یا بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرنا۔
سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلوں یا ماورائے عدالت قتل کو روکنا۔
بلوچستان کے قدرتی وسائل پر وہاں کے مقامی لوگوں کے حقوق اور سی پیک جیسے میگا پراجیکٹس میں مقامی آبادی کی منصفانہ شمولیت کی وکالت کرنا۔
ریاست کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی پر مسلسل سخت دباؤ ہے۔ حال ہی میں جون 2026 میں، ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی صبغت اللہ شاہ کو دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے، جس کے خلاف ان کی قانونی ٹیم صوبائی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے جا رہی ہے۔