Volume 8, No. 9, September 2026
Editor: Rashed Rahman
Error: Contact form not found.
عالمی سرمایہ دارانہ سامراج نے آج اپنی پیداوار کے ڈھانچوں اور نظاموں میں اس قدر بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں کر لی ہیں کہ ماضی کے وہ بیشتر تجزیے، جو الگ الگ قومی معیشتوں، ان کے باہمی تجارتی تعلقات، اور سرمایہ کے بہاؤ کے مطالعے پر مبنی تھے، اب اکیسویں صدی کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھانے کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں بیان کیے گئے سرمایہ داری کے تمام قوانینِ حرکت اور رجحانات غیر متعلق یا بے معنی ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین اور رجحانات نے نئی صورتیں اختیار کر لی ہیں، جنہوں نے دنیا کو ایک باہم مربوط عالمی معیشت (عالمگیریت) میں تبدیل کر دیا ہے، جسے سمجھنے کے لیے نئے زاویۂ نظر اور تازہ تجزیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی میں سرمایہ داری کے بارے میں پیش کیے گئے بنیادی نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔ کارل مارکس نے پہلے ہی اس رجحان کی نشاندہی کر دی تھی کہ دولت مسلسل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جائے گی (اجارہ داری یا کم از کم چند بڑی کمپنیوں کی بالادستی) اور مالیاتی سرمایہ (بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں) کا کردار بڑھتا جائے گا۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز تک یہ رجحانات سرمایہ داری کی ترقی کا غالب رخ بن چکے تھے۔
تاہم، پیداوار اور سرمایہ کے اجارہ داریوں میں ارتکاز اور مالیاتی سرمائے کی بالادستی کو اس وقت بھی بنیادی طور پر قومی ریاستوں کی حدود کے اندر رہ کر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن یہ قومی سرحدیں جلد ہی سرمایہ برآمد کرنے کی ضرورت کے دباؤ کے سامنے کمزور پڑ گئیں۔ اب سرمایہ داروں کی ترجیح صرف اشیا کی برآمد نہیں رہی بلکہ سرمایہ اور پیداوار کو بیرونِ ملک منتقل کرنا زیادہ منافع بخش ثابت ہونے لگا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ قومی حدود کے اندر سرمایہ کاری پر منافع کی شرح میں کمی کا رجحان موجود تھا، جبکہ دوسری جانب بیرونی ممالک میں پیداوار اور سرمایہ منتقل کرنے سے غیر معمولی یا سپر منافع حاصل کیے جا سکتے تھے۔
نوآبادیاتی نظام نے اس دوطرفہ عمل کو مزید آسان بنایا۔ مثال کے طور پر، ہندوستان کو اٹھارویں سے بیسویں صدی تک منافع، خام مال اور اشیا کی صورت میں برطانیہ کو بے پناہ دولت منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے برطانوی سرمایہ داری کو بے حد تقویت ملی۔
جلد ہی بڑی اجارہ دار کمپنیوں (کارٹیلز) نے عالمی منڈی کو آپس میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان دنیا کی جغرافیائی تقسیم واضح ہونے لگی۔ پرانی اور غالب سرمایہ دار طاقتوں کو اب نئی ابھرتی ہوئی سرمایہ دار ریاستوں کی جانب سے چیلنج درپیش تھا، جس کے نتیجے میں بیسویں صدی میں دو عالمی جنگیں ہوئیں۔ بنیادی طور پر یہ جنگیں دنیا کی ازسرِنو تقسیم کے لیے لڑی گئیں۔
ان ہولناک جنگوں میں لاکھوں انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد سرمایہ دار دنیا اس نتیجے پر پہنچی کہ اپنے باہمی تنازعات اور اختلافات کو جنگ کے بجائے دوسرے ذرائع سے ’’منظم‘‘ کرنا ضروری ہے، خصوصاً اس وقت جب بیسویں صدی کے وسط میں ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت دنیا کے سامنے آ چکی تھی، اور دنیا پہلی (سرمایہ دار) اور دوسری (اشتراکی) دنیا میں تقسیم ہو گئی تھی۔
دوسری عالمی جنگ میں سرمایہ دار طاقتوں کی باہمی تباہی نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور عسکری تعاون کو فروغ دیں، اور اشتراکی بلاک کے خلاف متحدہ محاذ قائم کریں، جسے بعد میں سرد جنگ کے نام سے جانا گیا۔
اسی باہمی کمزوری اور تھکن نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے عمل کو بھی تیز کر دیا، جس کے نتیجے میں سابق نوآبادیاں آزاد ریاستوں کی حیثیت سے عالمی منظرنامے پر ابھریں، اور انہیں مجموعی طور پر تیسری دنیا کا نام دیا گیا۔
چین (۱۹۴۹) اور کیوبا (۱۹۵۹) کے انقلابات کی کامیابی اور دنیا کی سب سے طاقتور سپر پاور، امریکہ، کی جارحیت (۱۹۵۴ سے ۱۹۷۵) کے خلاف ویتنامی عوام کی جرات مندانہ اور حیرت انگیز مزاحمت کے بعد، سرمایہ دارانہ نظام سے نجات کی امیدیں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں نوآبادیات مخالف، سامراج مخالف اور سرمایہ داری مخالف مسلح گوریلا جدوجہد سے وابستہ ہونے لگیں۔ ان تمام خطوں کو مجموعی طور پر “تیسری دنیا” کا نام دیا گیا۔
اس نظریے کو بعض مارکسی مفکرین، خصوصاً لن پیاؤنے، عالمی حکمتِ عملی کی حیثیت بھی دے دی۔ (لن پیاؤ بعد میں ایک ناکام بغاوت کے بعد چین سے فرار کی کوشش کرتے ہوئے فضائی حادثے میں مارے گئے اور سرکاری طور پر بدنام قرار دیے گئے۔) ان کے مطابق تیسری دنیا ترقی یافتہ سرمایہ دار “پہلی دنیا” کا محاصرہ کرے گی اور انقلابی سوشلسٹ ممالک کی مدد سے—جن میں اب “نظرثانی پسند” اور “سماجی سامراجی” قرار دیے جانے والے سوویت یونین اور اس کے مشرقی یورپی اتحادی شامل نہیں تھے—دنیا بھر میں سرمایہ داری کے اقتدار کا خاتمہ کر دے گی۔
تاہم، یہ سیدھا سادہ اور حد سے زیادہ سادہ بنایا گیا تصورسن ۱۹۷۰ اور سن ۱۹۸۰ کی دہائیوں میں ناکام ثابت ہوا۔ اگرچہ بہت سی نوآبادیات اور نیم نوآبادیات آزادی حاصل کرنے اور انقلابی قومی نجات کی تحریکوں میں کامیاب ہوئیں، لیکن سرمایہ دار پہلی دنیا نہ صرف برقرار رہی بلکہ جلد ہی وہ عالمی سرمایہ داری کے ڈھانچے کے اندر حتیٰ کہ سب سے زیادہ انقلابی حکومتوں کو بھی اپنے اندر سمو لینے میں کامیاب ہوگئی۔
آزادی کے بعد تیسری دنیا کے ممالک کو جلد ہی آزاد معاشی ترقی کی راہ میں عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچوں کی طرف سے عائد کردہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب، مجموعی طور پر سوشلسٹ ممالک بھی اس منصوبے کے لیے مطلوبہ حد تک معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ یوں ترقی یافتہ سرمایہ دار دنیا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد انہی ممالک کی قائم کردہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں—یعنی بریٹن ووڈز کے دو اہم ادارے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک —پر انحصار ایک ایسا طریقۂ کار بن گیا جس کے ذریعے نوآزاد معاشروں کو اپنی آزادانہ ترقی کی راہ اختیار کرنے سے محروم رکھا گیا۔
مغرب اور ان مالیاتی اداروں کی جانب سے دی جانے والی “امداد” بھی جلد ہی اپنے حقیقی کردار میں سامنے آنے لگی۔ یہ دراصل ان منحصر ممالک سے اضافی قدر نکالنے کا جدید ذریعہ تھی، جو قرضوں کے جال اور ان کے نتیجے میں دولت اور سرمائے کے ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کی طرف بہاؤ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
اسی دوران ۱۹۷۰ کی دہائی سے ایک اور متوازی رجحان بھی سامنے آیا۔ یہ رجحان تیسری دنیا کے کم اجرت والے مزدوروں سے حاصل کیے جانے والے غیر معمولی منافع کی شکل میں تھا، جس کا بنیادی ذریعہ کثیر القومی کمپنیاں تھیں، جنہوں نے بین الاقوامی پیداواری نیٹ ورکس پر اپنی بالادستی قائم کر لی تھی۔
یہ عمل لازماً ان ممالک میں براہِ راست سرمایہ کاری کے روایتی نمونے کے مطابق نہیں تھا، اگرچہ سرمایہ کاری اُس وقت بھی اور آج بھی منافع اور دولت کے جنوب سے شمال کی جانب منتقل ہونے کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔ دولت نکالنے کا نیا طریقہ عالمی سپلائی چینز کی تشکیل تھا، جس کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک کی کثیر القومی کمپنیاں بغیر کسی سرمایہ کاری، یا نہایت معمولی سرمایہ کاری کے ساتھ، کم اجرت والے جنوبی ممالک میں مقامی صنعت کاروں اور سپلائرز کو اپنے عالمی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا لیتی تھیں، جبکہ خود عالمی منڈیوں تک رسائی اور مارکیٹنگ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھتی تھیں۔
پیداوار کی اس بین الاقوامی تشکیل (جسے آج عالمگیریت کہا جاتا ہے) کو ۱۹۹۰ کی دہائی میں سوویت بلاک میں سوشلزم کے انہدام نے بے حد تقویت دی، جس کے نتیجے میں سرمایہ داری کو افقی سطح پر غیر معمولی وسعت حاصل ہوئی۔ اس عمل نے ایک نئی عالمی سرمایہ دار طبقے کو جنم دیا، جو بڑی حد تک پرانے سرمایہ دار طبقے سے مختلف تھا۔ یہ نیا طبقہ کم اجرت لیکن زیادہ اضافی قدر پیدا کرنے والی سپلائی چینز پر انحصار کرتا ہے۔ یہ کمپنیاں خود اشیا تیار نہیں کرتیں بلکہ دنیا بھر میں ان کی مارکیٹنگ اور فروخت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھتی ہیں۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں قومی ریاست کی اہمیت کو ۱۵ سے۲۰ کثیر القومی کارپوریشنوں نے بڑی حد تک پس پشت ڈال دیا ہے، جو عالمی سپلائی چینز کے ذریعے عالمی معیشت کی سمت اور تقدیر کا تعین کرتی ہیں۔ یہ سپلائی چینز بنیادی طور پر جنوبی ممالک میں قائم پیداواری مراکز کو عالمی معیشت کے مرکز سے جوڑتی ہیں اور پیداوار سے لے کر حتمی صارف تک (یعنی منڈیوں تک رسائی اور ان پر غلبے) کے پورے عمل پر ان کارپوریشنوں کا کنٹرول قائم ہے۔ آج دنیا کی ۸۰ فیصد سے زیادہ تجارت انہی کثیر القومی کمپنیوں کے زیرِ اثر ہے، جبکہ ان کی سالانہ فروخت عالمی مجموعی قومی پیداوا کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔
کثیر القومی کمپنیوں کی جانب سے پیداوار کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے اس عمل نے ۱۹۷۰کی دہائی سے لے کر اکیسویں صدی تک صنعتی روزگار کے بنیادی مراکز کو شمالی ممالک سے جنوبی ممالک کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک میں اس کے نتیجے میں صنعتیں بند ہوئیں، مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ، میں “رسٹ بیلٹس” وجود میں آئے، جہاں کبھی صنعتی سرگرمیوں سے آباد رہنے والے شہر زوال کا شکار ہو گئے اور فیکٹری ٹاؤنز تقریباً ختم ہو گئے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملازمتیں کم ہوتی گئیں اور محنت کش طبقہ ترقی کے عمل سے محروم ہو کر پیچھے رہ گیا۔ یہی ناراض اور مایوس طبقہ ترقی یافتہ ممالک میں دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور قوم پرست عوامی قوتوں کی سیاسی اور انتخابی بنیاد بن گیا، جس کی نمایاں مثالیں ڈونلڈ ٹرمپ کا ابھار اور بریگزٹ ہیں، جو ان رجحانات کے واضح “فائدہ اٹھانے والے” ثابت ہوئے۔
دوسری طرف، کم اجرت والے جنوبی ممالک میں مزدور نہایت محدود حقوق رکھتے ہیں، یا اگر حقوق موجود بھی ہوں تو ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ انہیں ریاستی و صنعتی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ آؤٹ سورسنگ، لیبر کنٹریکٹرز اور گھروں سے کام کرنے والے مزدوروں جیسے طریقۂ کار کے ذریعے ان کے باہمی اتحاد اور اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ جس ملک کی فی کس آمدنی جتنی کم ہوتی ہے، وہاں مغربی کثیر القومی کمپنیوں کا حصہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے، جس سے یہ ناقابلِ تردید نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس پورے نظام کی بنیاد کم اجرتوں پر استوار ہے۔
اگرچہ یہ رجحان بالکل نیا نہیں ہے اور تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں، لیکن آج کی عالمی اجناس کی سپلائی چینز کا حجم، پیچیدگی اور تنظیم ایک ایسی معیاری تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے عالمی سیاسی معیشت کو تبدیل کر دیا ہے اور مسلسل تبدیل کر رہا ہے۔
کم لاگت، خصوصاً کم اجرت والے ممالک سے پیداوار حاصل کرنے کا اصل فائدہ یہ ہے کہ عالمی اجارہ دار کمپنیاں غیر مساوی تبادلے کے عمل کے ذریعے دنیا کے پسماندہ یا حاشیائی خطوں میں محنت کشوں کی پیدا کردہ زائد قدر کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے لیتی ہیں۔ چین، بھارت اور دیگر “ٹائیگر” معیشتوں کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ عالمی اجناس کی سپلائی چینز میں مجموعی روزگار کا سب سے بڑا حصہ انہی ممالک میں مرتکز ہے، جبکہ امریکہ ان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
اس میدان میں پاکستان کی حیثیت اب بھی نہایت محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت پاکستان میں دستیاب کم اجرت والی افرادی قوت سے فائدہ اٹھائیں۔
دنیا کی معیشت میں پیداوار اور کھپت کا باہمی تعلق تیزی سے منقطع ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ترقی پذیر معیشتوں سے ترقی یافتہ اور امیر ممالک کی طرف وسائل کی منتقلی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ۲۰۱۲ میں ہی اس منتقلی کا تخمینہ تقریباً ۲ کھرب ڈالر لگایا گیا۔ اپنی غیرمعمولی دولت کو نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے امیر طبقے کو کیریبین اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود ایسے “خزانے کے جزائر” فراہم کیے جاتے ہیں جہاں وہ اپنی دولت ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور محفوظ رکھ سکیں (مثلاً پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے انکشافات)۔
جہاں تک ان عالمی اجناس کی سپلائی چینز کا تعلق ہے جن پر اس دولت کے انبار کا انحصار ہے، ان سے وابستہ ملازمتوں کی تعداد دنیا بھر میں ۱۹۹۵ میں۲۹۶ ملین سے بڑھ کر ۲۰۱۳ میں ۴۵۳ ملین تک پہنچ گئی۔ عالمی تقسیمِ محنت بھی اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا کے صنعتی مزدوروں کی اکثریت اب جنوبی ممالک میں مرتکز ہو چکی ہے۔ ۱۹۵۰ میں دنیا کے صرف ۳۴ فیصد صنعتی مزدور جنوب میں تھے، ۱۹۸۰ میں یہ شرح ۵۳ فیصد ہوئی، جبکہ ۲۰۱۰ تک بڑھ کر۷۹ فیصد تک جا پہنچی۔
موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام سرمائے کو تو مکمل آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے، لیکن محنت کشوں کو نہیں۔ اس صورتحال نے “ذخیرۂ مزدور فوج” کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے اسے “عالمی ذخیرۂ مزدور فوج” میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی اجرتوں میں ۴۰ سے ۶۰ فیصد تک کا فرق برقرار رہا ہے۔
آج ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے منافع کا انحصار براہِ راست قدر پیدا کرنے کے بجائے قدر پر قبضہ کرنے اور اس کے استخراج پر ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اجرتوں کو کم سطح پر رکھنے سے جنوبی دنیا سے معاشی اضافی پیداوار کا بے مثال انخلا ممکن ہو جاتا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں کوئی متناسب فائدہ واپس نہیں دیا جاتا۔ ترقی پذیر دنیا کے وہ ممالک جنہیں ان کی معاشی سرگرمی اور برآمدات کے باعث سراہا جاتا ہے (بدقسمتی سے پاکستان ان میں شامل نہیں)، ان کی ترقی کی بنیاد صنعتی پیداوار پر ہے۔
اسی دوران ایسی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ابھر کر سامنے آئی ہیں جو خود کوئی چیز تیار نہیں کرتیں بلکہ صرف عالمی سپلائی چینز کو کنٹرول کرتی ہیں۔ یہی رجحانات آف شورنگ کے نئے دور کی بنیاد ہیں۔
اجارہ دار سرمایہ داری کی عالمگیریت اور عالمی اجناس کی پیداوار نے ترقی یافتہ ممالک کے زیادہ اجرت لینے والے مزدوروں کی جگہ ترقی پذیر ممالک کے کم اجرت مگر یکساں مہارت رکھنے والے مزدوروں کو دے کر جنوبی دنیا کو عالمی ذخیرۂ مزدور فوج میں شامل کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مزدوروں کے درمیان مسابقت میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ روزگار کا عدم تحفظ اور بے روزگاری کا مستقل خوف اجرتوں کو نیچے اور منافع کو اوپر رکھتا ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں مکمل آزاد مسابقت کے بجائے زیادہ سے زیادہ اجارہ دارانہ محدود مسابقت میں مصروف رہتی ہیں۔ آزاد منڈی اور مکمل مقابلے کا کلاسیکی ماڈل اب متروک ہو چکا ہے۔ جنوبی دنیا کے مزدوروں کا استحصال صرف کم اجرتوں تک محدود نہیں بلکہ اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ شمال اور جنوب کے درمیان اجرتوں کا فرق، ان کی پیداواری صلاحیت کے فرق سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجارہ دار سرمایہ دار خوش ہیں کیونکہ جنوبی ممالک، مثلاً چین اور بھارت، میں پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ ان کے منافع بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
سرمائے اور دولت کا ارتکاز اب انتہائی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے ۲۶ امیر ترین افراد (جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے) کے پاس اتنی دولت ہے جتنی دنیا کی نصف آبادی، یعنی ۸۔۳ ارب افراد، کے پاس مجموعی طور پر موجود ہے۔ اس طرح عالمی سرمایہ دارانہ معیشت پہلے سے کہیں زیادہ مرکوز (اجارہ دارانہ)، درجہ بند اور امیر و غریب طبقات اور ممالک کے درمیان شدید غیر مساوی ہو چکی ہے۔
یہ وہ ورثہ ہے جو عالمگیر سرمایہ داری نے انسانیت کو دیا ہے۔ واضح ہے کہ لاکھوں مزدوروں، کسانوں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کی جدوجہد کو صرف قومی ریاست کی حدود تک محدود رکھنا بہت محدود نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ موجودہ دور میں اگرچہ بائیں بازو کی کوئی مؤثر بین الاقوامی تنظیم موجود نہیں (اور ماضی کے تلخ تجربات کو دیکھتے ہوئے شاید یہ مکمل طور پر منفی بات بھی نہیں)، لیکن کیا سرمایہ داری کی عالمگیریت اور اس کے اثرات اس بات کا تقاضا نہیں کرتے کہ اس غیر منصفانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوتیں بھی عالمی سطح پر متحد ہوں؟ کیا دنیا بھر کی بائیں بازو کی تحریکوں کو کم از کم باہمی یکجہتی اور تعاون کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب نہیں آنا چاہیے تاکہ اس عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے؟