Volume 8, No. 8, August 2026
Editor: Rashed Rahman
Error: Contact form not found.
Mao Spectre
اس دفعہ جناب راشد رحمن صاحب نے چین کے حوالے سے بات کی انھوں نے بتایا کہ چین کے نوجوانوں میں ماؤ زے تنگ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، جہاں ماؤ ازم صرف ادھیڑ عمر یا بزرگ افراد تک محدود تھا، اب چینی یونیورسٹیاں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس نئی لہر کا مرکز بن چکے ہیں۔چینی نوجوانوں میں ماؤ کی مقبولیت بڑھنے کی بہت سی اہم وجوہات ہیں، دن بدن معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ایک سخت گیر ورک کلچر سے بیزاری پیدا ہو رہی ہے، چینی نوجوانوں کو شدید معاشی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ خود کو سرمایہ دارانہ نظام میں پسے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور اپنی اس بیزاری و غصے کے اظہار کے لیے ماؤ زے تنگ کے سرمایہ داروں کے خلاف “طبقاتی جدوجہد” کے نظریات کا سہارا لے رہے ہیں۔ امیر اور غریب کا بڑھتا ہوا فرق چین کی تیز رفتار معاشی ترقی کے بعد معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق اور طبقاتی نظام بہت مضبوط ہو چکا ہے۔ نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ محنت کے باوجود سماجی ترقی کے راستے مسدود ہیں۔ ایسے میں وہ ماؤ زے تنگ کے دور کو یاد کرتے ہیں جب معاشرے میں برابری اور مساوات قائم تھی۔ ماؤ کی کتابوں کی مانگ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ چنگ ہوا یونیورسٹی میں ماؤ زے تنگ کی منتخب تحریریں لائبریری سے سب سے زیادہ جاری کروائی جانے والی کتابوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ چکی ہیں۔ نوجوان ان کتابوں کو سب ویز اور لائبریریوں میں پڑھتے ہیں اور آن لائن بک کلبز چلا رہے ہیں۔”چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ Bilibili، Zhihu، اور Weibo پر ماؤ زے تنگ کو ایک “استاد” کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نوجوان ان کے انقلابی اقوال، آڈیو اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ وہ ماؤ کے فلاسفی اور حکمتِ عملی کو اپنے مینیجرز اور کام کی جگہ پر ہونے والے استحصال کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چینی نوجوان ماؤ کے دور کی سیاسی سختیوں (جیسے ثقافتی انقلاب) کو نظر انداز کر کے، انہیں ایک ایسے باغی رہنما کے طور پر دیکھتا ہے جو عام اور پسماندہ لوگوں کے حقوق، برابری اور سرمایہ داروں کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔
چینی حکومت اس بارے میں مخمصے کا شکار ہے ایک طرف وہ ماو کو اپنا ہیرو قرار دیتی ہے دوسری طرف وہ ماو کی تعلیمات کو اپنی تیز رفتار معاشی ترقی میں رکاوٹ سمجھتی ہے چنانچہ اس نے مزدور یونین کی کوششوں کو سختی سے کچلا ہے۔داود ظفر ندیم