Volume 8, No. 4, April 2026
Editor: Rashed Rahman
Error: Contact form not found.
انقلابی تبدیلی کیلئے دورِ حاضرمیں جدوجہد
راشد رحمان
سال 2017 اکتوبر 1917 کے روسی کمیونسٹ انقلاب کی صد سالہ سالگرہ کا سال تھا۔ ان سو برسوں کو انسانی تاریخ کا سب سے پُرتشدد دور کہا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ان سو برسوں میں انقلاب اور ردِانقلاب کے مرکزی کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔
انسان کی ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی آرزو تقریباً اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان، کم از کم اتنی پرانی ضرور ہے جتنی نجی ملکیت، طبقاتی تقسیم اور ریاست کے ظہور کی تاریخ۔ یہ سب قدیم زرعی انقلاب کی پیداوار تھے، جس نے انسانیت کے بڑے حصے کو شکاری اور خوراک جمع کرنے والی ابتدائی زندگی کی غیر یقینی کیفیت سے نکال کر مستقل بستیوں میں آباد کیا۔ اسی بنیاد پر قدیم تہذیبیں پروان چڑھیں، جو دریاؤں کے کناروں پر قائم ہوئیں کیونکہ شہروں کی بقا کے لیے وافر میٹھے پانی کا قابلِ اعتماد ذریعہ ضروری تھا۔ ایسی عظیم تہذیبوں کی تین نمایاں مثالیں وادیٔ سندھ، میسوپوٹیمیا اور مصر ہیں، جو تقریباً ہم عصر تھیں اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کے مطابق آپس میں رابطے اور تجارت بھی کرتی تھیں۔
یہ قدیم تہذیبیں اور ان کے بعد آنے والی معاشرتیں اُن لوگوں کی محکومی پر قائم تھیں جو زمین پر محنت کرتے اور حکمران طبقے کو دولت فراہم کرتے تھے۔ مغرب میں یہ محکومی غلامی اور جاگیرداری کی صورت میں ظاہر ہوئی، جبکہ قدیم دنیا کے دیگر حصوں میں ایشیائی طرزِ پیداوار رائج تھا، جس میں ریاست آبپاشی اور عوامی تعمیرات کے ذریعے زرعی پیداوار کو کنٹرول کرتی اور کسانوں سے خراج وصول کرتی تھی۔ اس محکومی اور زائد پیداوار کے حصول کے لیے جبر کی ضرورت تھی، چنانچہ ریاست بطور آلۂ تسلط اور طبقاتی حکمرانی وجود میں آئی۔
اس جابرانہ نظام کے خلاف بغاوتیں ہوئیں، مگر انہیں یا تو خونریز انداز میں کچل دیا گیا یا حکمران بدل گئے مگر نظام جوں کا توں رہا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں صنعتی انقلاب کے ساتھ سرمایہ داری کے مکمل ظہور تک نظامی تبدیلی کی حقیقی امید سامنے نہ آئی۔ مغرب میں سرمایہ داری نے منتشر کسانوں کو شہروں میں سمیٹا، انہیں طویل اوقات کار کے لیے کارخانوں میں جھونکا اور کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور کیا۔ انہی کسمپرسی کے حالات نے مزدور طبقے میں یکجہتی کو جنم دیا، جو ٹریڈ یونینوں اور سماجی تنظیموں کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یوں ابھرتا ہوا مزدور طبقہ ایک ”طبقہ فی نفسہٖ“ تو بن گیا، مگر ابھی ”طبقہ برائے خود“ نہ بن سکا تھا۔
متعدد خیالی نظریات کے بعد ایک منصفانہ معاشرے کا تصور، جو اب سوشلزم کی صورت اختیار کر چکا تھا، سائنسی بنیادوں پر استوار ہوا۔ انیسویں صدی میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے سائنسی سوشلزم پیش کیا، جس کے مطابق سرمایہ داری جتنی متحرک اور اختراعی تھی، اتنی ہی اپنے گورکن بھی پیدا کر رہی تھی: یعنی مزدور طبقہ، جس کے پاس ذرائع پیداوار نہیں تھے اور زندہ رہنے کے لیے صرف اپنی محنت بیچنا پڑتی تھی۔ مگرسن 1848کے یورپی انقلابات کی ناکامی اورسن 1870 کی پیرس کمیون کی شکست کے بعد ردِانقلاب کا غلبہ نظر آیا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں انقلابی امیدیں دوبارہ بیدار ہوئیں، مگر اس بار غیر متوقع طور پر پسماندہ روس میں۔ مارکس اور اینگلز نے بدلتے حالات میں اپنے نظریات پر نظرثانی کی گنجائش رکھی۔ روس میں ابتدائی شکوک کے باوجود انہوں نے وہاں انقلاب کے امکان کو تسلیم کیا۔
زار شاہی روس تضادات کا مجموعہ تھا۔ سن 1905 میں جاپان سے شکست کے بعد انقلاب برپا ہوا اور مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کی سوویتیں (کونسلیں) وجود میں آئیں۔ اگرچہ یہ انقلاب کچل دیا گیا، مگر سوویتوں کی یاد سن 1917 میں دوبارہ زندہ ہوئی۔
پہلی عالمی جنگ سن 1917 کے انقلاب کا محرک بنی۔ فروری 1917 میں عوامی بغاوت نے بادشاہت کا خاتمہ کیا اور جمہوریہ قائم ہوئی۔ مگر لینن نے اپریل تھیسس کے ذریعے دلیل دی کہ روس سوشلسٹ انقلاب کے لیے تیار ہے۔ بالشویکوں کا نعرہ “روٹی، امن، زمین” عوام میں مقبول ہوا اور اکتوبر 1917 میں انہوں نے اقتدار سنبھال لیا۔
سوشلسٹ ریاست کے قیام نے عالمی سرمایہ دار قوتوں کو چونکا دیا۔ 22 ممالک نے شاہ پرست وائٹ گارڈز کی مدد کی، مگر عوامی حمایت یافتہ انقلاب کو شکست نہ دی جا سکی۔ سن 1918 تا 1922 خانہ جنگی کے باوجود بالشویک کامیاب رہے۔
یورپ میں انقلابات کی ناکامی کے بعد “ایک ملک میں سوشلزم” کا نعرہ دراصل مجبوری اور عملی حقیقت کا اعتراف تھا۔ بالشویکوں نے ایک پسماندہ ملک کو جدید بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ لینن نے بجلی کاری کو صنعتی ترقی کی بنیاد بنایا۔ معیشت کے کلیدی شعبے قومیائے گئے، مزدوروں کو حقوق ملے، کسانوں میں زمین تقسیم ہوئی، تعلیم، صحت اور روزگار عام کیے گئے، اور مختلف قومیتوں کو مساوی حقوق دیے گئے۔ ان پالیسیوں نے عوام کی زندگی بدل دی اور روسی انقلاب کی مثال نے دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں کو متاثر کیا۔
اگر پہلی عالمی جنگ سے ورثے میں ملنے والے مسائل، اقتدار پر قبضہ اور خانہ جنگی/سامراجی مداخلت کافی نہ تھیں تو سن 1924 میں لینن کی وفات (جوسن 1918 میں ان پر قاتلانہ حملے کے نتیجے میں دماغی شریانوں کے سکڑاؤ کے باعث قبل از وقت ہوئی) کے فوراً بعد یورپ میں فاشزم کا سایہ منڈلانے لگا۔ سن 1922 میں اٹلی (موسولینی) اس آفت کا شکار ہوا اور سن 1933 میں جرمنی (ہٹلر)۔ خاص طور پر جرمنی میں نازی پارٹی نے پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر فاتح اتحادیوں کی جانب سے جرمنی پر عائد کردہ ورسائے کے معاہدے کی سخت شرائط اور عظیم کساد بازاری (1929ء تا 1939ء) کے دوران عام محنت کش عوام کی بے روزگاری، بھوک اور افلاس سے جنم لینے والی محرومیوں سے فائدہ اٹھایا۔ یورپ میں فاشزم کے عروج کی بازگشت مشرق میں جاپان اور مغرب میں اسپین میں بھی سنائی دی، جہاں فاشزم کی خصوصیات نمایاں ہوئیں۔
ہٹلر کے تحت تیزی سے مسلح ہوتے جرمنی کی صورت میں فاشزم کا فوری خطرہ بڑھتا گیا، جبکہ دیگر سامراجی ممالک کی مسلسل دشمنی بھی ایک حقیقت تھی۔ اس پس منظر میں سوویت حکومت نے تیز رفتار صنعت کاری کا آغاز کیا، حتیٰ کہ اس کی قیمت زراعت اور عوام کی دیگر ضروریات کو چکانی پڑی۔ دلیل یہ تھی کہ یا تو سوویت یونین کو سامراجی ممالک کے برابر آنا ہوگا تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے، ورنہ اسے مٹا دیا جائے گا۔
جرمنی کے حملے کو روکنے کے لیے سوویت یونین نے ہٹلر کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کیا، اس امید پر کہ وہ خود کو یورپ کے باقی حصے کی فتح تک محدود رکھے گا، جسے ماسکو ایک اور بین السامراجی جنگ سمجھتا تھا۔ تاہم اسٹالن کی قیادت میں سوویت یونین نے ہٹلر کی عالمی تسلط کی خواہش اور کمیونزم سے اس کی نفرت کو سنگین طور پر کم سمجھا۔ یورپ کے بڑے حصے کو فتح کرنے اور برطانوی افواج کو براعظم سے نکالنے کے بعد ہٹلر نے جون 1941 میں اچانک سوویت یونین پر حملہ کر دیا۔ ابتدائی حیرت، سوویت افواج کی نسبتی تکنیکی کمزوری اور جرمنوں کی برق رفتار جنگی حکمت عملی نے سوویت دفاع کو ابتدا میں پسپا کر دیا اور جرمن افواج ماسکو کے قریب تک پہنچ گئیں۔
ہٹلر کا خیال تھا کہ سخت روسی سردیوں سے پہلے سوویت یونین ہتھیار ڈال دے گا، مگر اس نے سوویت عوام اور انقلاب کی مزاحمت کو کم سمجھا تھا۔ ابتدائی پیش قدمی کے بعد جرمن حملہ شدید مزاحمت کے باعث سست پڑ گیا اور جنگ محاذ آرائی اور تھکا دینے والی لڑائی میں بدل گئی۔ لینن گراڈ اور اسٹالن گراڈ کے محاصرے اس تعطل کی علامت بنے۔ دسمبر 1941 میں جاپان کے پرل ہاربر پر حملے کے بعد امریکہ بھی جنگ میں شامل ہو گیا۔ اب جرمنی، اٹلی اور جاپان پر مشتمل فاشسٹ محور کو سرمایہ دار طاقتوں اور سوشلسٹ سوویت یونین کے اتحاد کا سامنا تھا۔ اگرچہ برطانیہ پر فضائی جنگ، بحرالکاہل میں امریکی محاذ اور شمالی افریقہ میں اتحادی کارروائیاں جاری تھیں، مگر ہٹلر کی سفاک افواج کا اصل بوجھ سوویت یونین نے اٹھایا۔
فروری 1943 میں اسٹالن گراڈ کے محاصرے کی ناکامی سے حالات کا رخ بدلا۔ سوویت عوام نے بھاری جانی نقصان—تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہلاکتوں اور کروڑوں زخمیوں—کی قیمت پر مشرقی محاذ پر ہٹلر کو شکست دی۔ برطانوی فوجی مورخ بیسل لڈل ہارٹ کے مطابق، عملی طور پر سوویت یونین نے ہی ہٹلر کو فیصلہ کن شکست دی جبکہ اتحادی کوشش جنگ کے آخری مرحلے میں نمایاں ہوئیں۔
دوسری عالمی جنگ نے عالمی نظام کو جڑوں سے ہلا دیا۔ نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف آزادی اور قومی نجات کی تحریکیں تیز ہو گئیں۔ تاہم یورپ سرمایہ دار مغرب اور سوشلسٹ مشرق میں تقسیم ہو کر سرد جنگ میں داخل ہو گیا۔ سن 1956 میں ہنگری اور سن 1968 میں چیکوسلواکیہ میں بغاوتیں سوویت قیادت میں وارسا پیکٹ کی مداخلت سے کچل دی گئیں۔ دوسری جانب کوریا اور ویتنام کی جزوی آزادی نے تیسرے عالم میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی خواہش کو تقویت دی۔
سن1949 میں چینی انقلاب کی کامیابی، سن 1958 میں کیوبا کا انقلاب اور ویتنام میں نوآبادیاتی و سامراج مخالف جنگ نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں گوریلا تحریکوں کو ابھارا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سوشلزم کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور نوآبادیات و سامراج کا دور ختم ہونے کو ہے، خصوصاً 1975 میں ویتنام کی امریکہ کے خلاف فتح کے بعد۔ مگرسن 1980 کی دہائی کے آخر تک تیسرے عالم کی انقلابی امیدیں ماند پڑ گئیں۔ گوریلا تحریکیں کمزور ہوئیں اور جہاں کامیاب ہوئیں بھی، وہاں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی غلبے کا سامنا کرنا پڑا۔
سن1990 کی دہائی میں تیسرے عالم میں گوریلا تحریکیں تقریباً ختم ہو گئیں، سوائے چند مثالوں جیسے کولمبیا (وہ طویل عرصے سے جاری بغاوت اس وقت خانہ جنگی سے ایک مذاکراتی امن معاہدے کی طرف منتقلی کے عمل سے گزر رہی ہے) اور سن 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ کر 15 آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ میں تبدیل ہو گیا، مگر یہ بندوبست بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ سن 1989 میں دیوارِ برلن کے انہدام سے شروع ہونے والا مشرقی یورپ اور سوویت یونین میں سوشلسٹ نظاموں کے زوال کا عمل اب مکمل ہو چکا تھا۔
سوویت یونین کے انہدام کے اسباب نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی تھے، لیکن اگر کسی ایک بنیادی سبب کی نشاندہی کی جائے تو وہ نسبتاً پسماندہ ملک میں سوشلزم کی تعمیر کی اندرونی مشکلات تھیں، وہ بھی اس حال میں کہ سامراجی طاقتوں کی مسلسل دشمنی اور تخریب کاری کا سامنا تھا۔ اس صورتِ حال نے ناگزیر طور پر انقلاب اور اس کی قیادت کو محاصرے کی ذہنیت میں دھکیل دیا، جہاں بقا کی جدوجہد اور سامراجی مداخلت کے خطرات دیگر تمام امور پر غالب آگئے۔
سن1917ء کے انقلاب کے فوراً بعد شاہ پرست وائٹ گارڈز اور ان کے سامراجی حامیوں کے خلاف خانہ جنگی کے دوران مسلط کی گئی ’’وار کمیونزم‘‘ پالیسی نے عوام کو شدید مشکلات، بھوک اور بعض علاقوں میں قحط تک سے دوچار کیا۔ یوں انقلاب کی فتح بھاری انسانی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی۔ خانہ جنگی کے خاتمے پر بالشویک قیادت نے معیشت کی بحالی کے لیے نئی معاشی پالیسی (NEP) متعارف کرائی، جس میں خوشحال کسانوں (Kulaks) کو مراعات دی گئیں۔ لینن نے پیش گوئی کی تھی کہ اقتدار سے محروم کیے گئے سرمایہ دار اور بڑے زمیندار طبقات کی مزاحمت کئی گنا بڑھ جائے گی، لہٰذا طبقاتی جدوجہد انقلاب کی کامیابی کے باوجود مزید شدت اختیار کرے گی۔
یہی تصور دوسری جنگِ عظیم کے بعد اسٹالن کی تصنیف ’’Economic Problems of Socialism in the USSR‘‘ میں دوبارہ ابھرا۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد تیز کرنا ناگزیر ہے۔ بعد ازاں تاریخ نے دکھایا کہ جنگ کے تباہ کن انسانی و مادی نقصانات نے سرمایہ دارانہ بحالی کی قوتوں کو پنپنے کا موقع دیا، اور انقلاب کے بعد کی محرومیوں پر خاموش ناراضی میں اضافہ ہوا۔
اسٹالن کے دور میں مبینہ ’’انسدادِ انقلابی‘‘ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن نے کمیونسٹ پارٹی کے اندر اور باہر اختلافِ رائے کو دبایا۔ 1956ء میں نکیتا خروشیف نے خفیہ تقریر میں اسٹالن کی مذمت کی، جس کے افشا ہونے سے ہنگری میں بغاوت بھڑک اٹھی۔ اگرچہ اسے کچل دیا گیا، لیکن اس نے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ نظام اور خود سوویت یونین کی نوعیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔ 1968ء میں چیکوسلواکیہ میں ’’انسانی چہرے والا سوشلزم‘‘ کی کوشش کو بھی بزور طاقت ختم کر دیا گیا، جس سے نظام کے اندرونی تضادات مزید نمایاں ہوئے۔
سن 1979ء تا 1989ء افغانستان میں سوویت مداخلت آخری ضرب ثابت ہوئی۔ بظاہر افغان انقلاب کو بچانے کے نام پر کی گئی اس کارروائی نے نہ صرف وہاں کی انقلابی پیش رفت کو نقصان پہنچایا بلکہ سوویت یونین کے اندرونی تضادات کو بھی گہرا کر دیا۔ سن 1985ء میں میخائل گورباچوف کی قیادت میں ’’پیریستروئیکا‘‘ (اصلاحات) اور ’’گلاسنوسٹ‘‘ (کشادگی) کے ذریعے اصلاحات کی کوشش کی گئی، مگر ایک جمود زدہ اور عوام سے کٹا ہوا نظام اصلاحات کے مرحلے میں سب سے زیادہ کمزور ثابت ہوا۔ بعد میں یہ بھی واضح ہوا کہ گورباچوف نے سوشل ڈیموکریسی کو قبول کرتے ہوئے مارکسزم سے عملاً دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ سن 1991ء میں سوویت یونین کا انہدام اسی عمل کا منطقی انجام تھا۔
سوویت یونین کے خاتمے پر سرمایہ دار مغرب میں جشن منایا گیا۔ برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر نے اعلان کیا کہ ’’آزاد منڈی کے سرمایہ داری نظام کا کوئی متبادل نہیں‘‘۔ سرد جنگ کے بعد سرمایہ داری نے عالمی سطح پر توسیع کی اور مارکسزم و سوشلزم کو متروک قرار دے دیا گیا۔ تاہم تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ انقلابی نظریات اپنی موت کی خبروں کو غلط ثابت کرتے رہے ہیں۔ سن 1999ء کے سیئٹل احتجاج، ’’آکوپائی وال اسٹریٹ‘‘ تحریک، اور لاطینی امریکہ و یورپ میں بائیں بازو کی بحالی اس بات کا اشارہ ہیں کہ سرمایہ داری کی ’’حتمی فتح‘‘ کا دعویٰ تاریخ کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی انسانی آرزو آج بھی زندہ ہے۔
آج کی دنیا، بشمول پاکستان، کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جدید دنیا کے ارتقا کو ماقبل سرمایہ دارانہ معاشروں سے جوڑ کر دیکھیں۔ یورپ میں جاگیرداری نظام بتدریج نئی پیداواری قوتوں اور سائنسی و فکری ترقی کے زیرِ اثر تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں پرانا نظام یا تو پُرامن طور پر یا انقلابی تشدد کے ذریعے ختم ہوا۔ ایشیا، افریقہ اور امریکہ میں نوآبادیاتی تسلط نے روایتی معاشروں کو تباہ کن اثرات سے دوچار کیا، جبکہ سرمایہ دار دنیا کو تقویت ملی۔
موجودہ حالات میں انقلابی جدوجہد کے امکانات اگرچہ مدھم دکھائی دیتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک واضح نظریاتی خاکہ مرتب کیا جائے جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرے اور عملی جدوجہد کی رہنمائی فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے منظم تنظیمی قوت کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ محنت کش عوام کو متحرک کر کے ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کے لیے آج ہمارے عوام کو خود کو وقف کرنا ہوگا۔